شیشے میں چہرہ
عائشہ کو پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق تھا۔ ایک دن اسے ایک پرانا آئینہ بازار سے ملا، بہت خوبصورت اور نایاب۔ دکاندار نے اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا:
"یہ آئینہ اپنے گھر مت لے جاؤ… اس میں کچھ ہے۔"
عائشہ نے بات کو مذاق سمجھا اور آئینہ خرید کر اپنے کمرے میں رکھ لیا۔ پہلی رات ہی اسے محسوس ہوا کہ آئینے میں اس کا عکس کچھ مختلف ہے۔ جب وہ مسکراتی تو آئینے والا عکس بالکل نہیں مسکراتا، بلکہ سنجیدہ رہتا۔
اگلی رات اس نے دیکھا کہ اس کا عکس دیر تک گھورتا رہا، حتیٰ کہ جب وہ پیچھے ہٹ گئی تب بھی وہ "عکس" اپنی جگہ کھڑا دیکھتا رہا۔
تیسری رات… عائشہ کے سامنے آئینے میں اُس کے پیچھے ایک سیاہ سایہ نمودار ہوا۔ وہ گھبرا کر پلٹی، مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
اچانک اس کا عکس آئینے سے باہر نکلنے لگا۔ وہی چہرہ، وہی وجود، مگر آنکھیں سیاہ اور مسکراہٹ خوفناک۔
عکس نے سرگوشی کی:
"اب اصل تم میں ہوں… اور تم صرف ایک عکس ہو۔"
عائشہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی مگر اس کا عکس آہستہ آہستہ آئینے سے باہر نکل آیا۔ کمرہ ٹھنڈا پڑ گیا، جیسے کسی نے ساری ہوا کھینچ لی ہو۔
اب کمرے میں دو عائشہ تھیں—
ایک اصلی، جو کانپ رہی تھی،
اور ایک عکس، جو پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی تھی۔
عکس نے آگے بڑھ کر عائشہ کے کان میں کہا:
"اب اس گھر میں صرف ایک عائشہ رہ سکتی ہے۔ فیصلہ آئینہ کرے گا۔"
اتنے میں آئینہ خودبخود لرزنے لگا۔ روشنی کی ایک کرن نکلی اور دونوں وجود آئینے میں کھنچنے لگے۔ عائشہ نے مزاحمت کی، لیکن عکس ہنستا رہا۔
جب سب ختم ہوا تو کمرہ بالکل خاموش ہو گیا۔ آئینے میں صرف ایک چہرہ موجود تھا—
لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اصل عائشہ تھی یا اس کا خوفناک عکس۔
اگلی صبح، اس کے گھر والے جب کمرے میں داخل ہوئے تو عائشہ مسکرا رہی تھی…
لیکن اس کی آنکھیں عجیب سیاہ ہو چکی تھیں۔
.png)
Comments
Post a Comment