🏔 کہانی: "پہاڑوں کی سرگوشیاں"
بہت زمانے پہلے، شمال کے اونچے پہاڑوں میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس کے لوگ پہاڑ کے چشموں کا پانی پیتے اور اس کی برف سے اپنی زندگی گزارتے تھے۔ گاؤں کے بزرگ کہا کرتے تھے کہ یہ پہاڑ زندہ ہیں، اور رات کے سناٹے میں وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں۔
گاؤں کی ایک ننھی بچی "زری" بہت تجسس والی تھی۔ وہ اکثر آسمان پر بادلوں کو دیکھ کر سوچتی:
"کیا ان پہاڑوں کے پار کوئی اور دنیا ہے؟"
"زری، پہاڑ ان لوگوں کو اپنے راز دکھاتے ہیں جو دل کے صاف اور خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔"
ایک رات جب چاند پورے جوبن پر تھا، زری نے ایک چمکتا ہوا راستہ دیکھا جو پہاڑ کے اندر جا رہا تھا۔ ہمت کر کے وہ اندر گئی تو وہاں ایک سنہری درخت کھڑا تھا۔ اس درخت کی جڑوں سے پانی نہیں بلکہ روشنی نکلتی تھی، جیسے سورج کا ٹکڑا زمین کے اندر چھپا دیا گیا ہو۔
درخت نے اپنی نرم سی آواز میں کہا:
زری نے درخت سے سیکھا کہ پہاڑ کی اصل طاقت اس کی خاموشی ہے، اور جو شخص پہاڑ کی خاموشی کو سمجھ لے، وہ کبھی زندگی کی آندھیوں سے نہیں ڈرتا۔
گاؤں واپس آکر زری نے سب کو بتایا، اور تب سے گاؤں والے پہاڑوں کی سرگوشیوں کو غور سے سننے لگے۔ ان کے دل پرسکون ہو گئے اور وہ ہمیشہ خوشحال رہے۔
Comments
Post a Comment