ANDHERA KMRA

 

 


اندھیرا کمرہ

رات کے بارہ بجے احمد اپنے دوست کے گھر سے واپس آ رہا تھا۔ راستہ سنسان اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جب وہ اپنے پرانے محلے کے قریب پہنچا تو اچانک بجلی چلی گئی۔ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

وہ جلدی جلدی قدم بڑھانے لگا۔ اچانک پیچھے سے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ احمد نے پلٹ کر دیکھا تو کوئی نظر نہیں آیا۔ لیکن جیسے ہی وہ آگے بڑھتا، وہ آہٹیں بھی بڑھنے لگتیں۔

ڈرا ہوا احمد تیز چلنے لگا، پھر دوڑنے لگا۔ جب وہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا اور تالا کھولنے لگا تو پیچھے سے کسی نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی:
"تمہیں لگتا ہے تم اکیلے ہو؟"

اس کا جسم سن ہو گیا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے ہمت کر کے پلٹ کر دیکھا… وہاں کوئی نہیں تھا، صرف اندھیرا اور سناٹا۔

اچانک دروازہ خود بخود چرچرا کر کھل گیا۔ 

 احمد گھبرا کر گھر کے اندر داخل ہوا۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور سانس پھولتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، صرف کھڑکی سے ہلکی سی چاندنی اندر آ رہی تھی۔

اچانک کچن سے برتن گرنے کی زور دار آواز آئی۔ احمد کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ جانتا تھا گھر میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ ڈرتے ڈرتے اس نے کچن کی طرف قدم بڑھایا۔

کچن خالی تھا۔ برتن فرش پر بکھرے ہوئے تھے مگر ہوا بالکل بند تھی۔ اسی وقت اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔

اس نے کانپتے ہوئے آہستہ سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
وہی سایہ، جس کی آہٹ وہ راستے میں سن رہا تھا، کچن کے دروازے پر کھڑا تھا۔ لمبا، سیاہ، اور آنکھوں میں سرخ چمک۔

سایہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور ایک بھاری آواز گونجی:
"میں نے کہا تھا نا… تم اکیلے نہیں ہو۔"

احمد کے ہاتھ سے موم بتی گِر گئی، اور پورا کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا۔


Comments

Popular posts from this blog

🌑 The Blind Book EXCITING STORY ''TUMHARY ANY WALA KL TUMHARY AJ K FAISLY PR HA''

the cursed lantern intrusting story